صحیح مسلم حدیث ۸۵۰ - اذان کے جواب میں لا حول پڑھنا

اذان کا جواب: کب کیا کہنا ہے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۵۰

حدثني إسحاق بن منصور أخبرنا أبو جعفر محمد بن جَهْضَمٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ أَحَدُكُمُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .

عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب مؤذن «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ دہرائے اور جب وہ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ کہے۔ اور جب مؤذن «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» کہے تو سننے والا «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہے۔پھر مؤذن جب «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کہے تو سننے والے کو «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنا چاہئیے۔ اس کے بعد مؤذن جب «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے تو سننے والے کو بھی یہی الفاظ دہرانے چاہئیں اور جب سننے والے نے اس طرح خلوص اور دل سے یقین رکھ کر کہا تو وہ جنت میں داخل ہوا۔“ (بشرطیکہ ارکان اسلام کا بھی پابند ہو)۔

صحیح مسلم حدیث ۸۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اذان کے جواب کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو سننے والا بھی یہی کہے۔ جب مؤذن شہادت توحید اور شہادت رسالت کہے تو سننے والا بھی وہی الفاظ دہرائے۔ جب مؤذن حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہے تو سننے والا لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہے۔ پھر آخر کے اللہ اکبر اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ بھی دہرائے۔ حدیث میں دل سے یقین کے ساتھ کہنے کا ذکر آیا ہے۔ اس روایت سے اذان کا جواب، لا حول ولا قوۃ الا باللہ اور دل کی تصدیق کا تعلق واضح ہوتا ہے۔ یہ اذان سننے والے کے لیے مکمل عملی طریقہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اذان کے اکثر الفاظ مؤذن کے ساتھ دہرائے جائیں۔
  • حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا جائے۔
  • الفاظ دل کے یقین کے ساتھ ادا کرنے کی بات اس حدیث میں آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں