صحیح مسلم حدیث ۸۴۸ - اذان کا جواب کیسے دیں
اذان کا جواب دینے کا آسان طریقہ
صحیح مسلم : ۸۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۴۸
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ " .
ابو سعید خدری روایت:
جب تم اذان سنو تو مؤذن کے الفاظ دہراتے رہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا حکم بیان کرتے ہیں کہ جب تم اذان سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے۔ یہ بہت مختصر مگر عملی حدیث ہے۔ اذان کا جواب دینے کا مطلب یہ ہے کہ سننے والا اذان کو نظر انداز نہ کرے، بلکہ مؤذن کے کلمات کے ساتھ اپنی زبان کو بھی اللہ کے ذکر میں شامل کرے۔ اس روایت میں تفصیل نہیں دی گئی کہ کس لفظ کے جواب میں کیا کہنا ہے، بلکہ عام حکم دیا گیا ہے کہ مؤذن کے الفاظ دہراؤ۔ اس سے اذان سننے کا ادب، نماز کی تیاری اور دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان سن کر خاموش بے توجہی مناسب نہیں، جواب دینا چاہیے۔
- سننے والا مؤذن کے الفاظ دہرائے۔
- اذان کا جواب نماز کی تیاری کا حصہ بن سکتا ہے۔
