صحیح مسلم حدیث ۸۴۷ - اذان مسلمان کی پہچان
اذان کی آواز اور مسلمان کی پہچان
صحیح مسلم : ۸۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۴۷
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا ، أَمْسَكَ ، وَإِلَّا أَغَارَ ، فَسَمِعَ رَجُلًا ، يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى الْفِطْرَةِ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ فَنَظَرُوا ، فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے ہی دشمنوں پر حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے اور اگر مخالفوں کے شہر میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو ان پر حملہ نہ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے سنا تو فرمایا: ”یہ مسلمان۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہتے سنا تو ارشاد فرمایا: ”اے شخص! تو نے دوزخ سے نجات پائی۔“ اس کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۸۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صبح کے وقت دشمنوں کے بارے میں اقدام سے پہلے اذان کی آواز سنتے تھے۔ اگر کسی بستی سے اذان سنائی دیتی تو آپ صلى الله عليه وسلم حملہ نہ کرتے۔ ایک شخص نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ فطرت پر ہے۔ پھر اس نے اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم آگ سے نکل گئے۔ بعد میں لوگوں نے دیکھا کہ وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اذان توحید، نماز اور اسلام کی پہچان ہے۔ اذان کی آواز صرف اعلان نہیں بلکہ اللہ کی بڑائی اور ایمان کی گواہی بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان مسلمانوں کی پہچان کے طور پر سامنے آتی ہے۔
- اللہ اکبر اور کلمہ شہادت اذان کے بنیادی الفاظ ہیں۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اذان کی آواز سن کر اقدام روک دیتے تھے۔
