صحیح مسلم حدیث ۸۵۱ - اذان سن کر رضیت باللہ کہنا

اذان سن کر رضیت باللہ رباً پڑھنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۵۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْقُرَشِيِّ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، وَبِالإِسْلَامِ دِينًا ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ " ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ : مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ : وَأَنَا أَشْهَدُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ : وَأَنَا .

سعد بن ابی وقاص روایت:

مؤذن کی اذان سن کر جس نے یہ کہا: ” «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ» میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اور دوسرا معبود نہیں ہے، اللہ تعالیٰ یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ میں اللہ کی ربوبیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے مسرور خوش ہوں اور میں نے مذہب اسلام کو قبول کر لیا ہے تو ایسے شخص کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ “ ابن رمح کی روایت میں «أَشْهَدُ» کی بجائے «أَنَا أَشْهَدُ» ہے معنی میں و مفہوم ایک ہی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۸۵۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص مؤذن کی اذان سن کر یہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلى الله عليه وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، پھر کہے کہ میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلى الله عليه وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں، تو اس کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔ روایت میں الفاظ کے ایک معمولی فرق کا بھی ذکر ہے، مگر معنی ایک ہی رہتا ہے۔ اس حدیث کا موضوع اذان کے بعد دعا، ایمان کی گواہی اور اسلام پر رضا ہے۔ یہ الفاظ سننے والے کو اذان کے پیغام سے دل کو جوڑنے کا موقع دیتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اذان سن کر توحید اور رسالت کی گواہی کے الفاظ کہے جا سکتے ہیں۔
  • اللہ کے رب، محمد صلى الله عليه وسلم کے رسول اور اسلام کے دین ہونے پر رضا کا ذکر آیا ہے۔
  • اس دعا کے ساتھ گناہوں کی معافی کی بشارت حدیث میں بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں