صحیح مسلم حدیث ۸۵۲ - قیامت کے دن مؤذن کی فضیلت

مؤذن کی فضیلت: قیامت کے دن بلند مقام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۵۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ،

طلحہ بن یحییٰ روایت:

طلحہ بن یحییٰ نے اپنے چچا کی زبانی بیان کیا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں انہیں مؤذن نماز کے لئے بلانے آیا، جس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”قیامت کے دن مؤذن کی گردن سب سے لمبی ہو گی۔“

صحیح مسلم حدیث ۸۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں طلحہ بن یحییٰ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان سنایا کہ قیامت کے دن مؤذن لوگوں میں سب سے لمبی گردنوں والے ہوں گے۔ اس حدیث کا اصل موضوع مؤذن کی فضیلت ہے۔ اذان دینے والا لوگوں کو نماز کی طرف بلاتا ہے، اس لیے اس خدمت کا ایک خاص مقام بیان کیا گیا۔ حدیث میں لمبی گردنوں کا ذکر آیا ہے، جسے الفاظ کے مطابق فضیلت کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ہمیں مؤذن کی عزت، نماز کی دعوت اور اذان کے مقام کی قدر سیکھنے کو ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مؤذن کی خدمت کی فضیلت حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
  • اذان لوگوں کو نماز کی طرف بلانے کا کام ہے۔
  • سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مؤذن کے آنے پر یہ حدیث بیان کی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں