سنن نسائی حدیث ۱۲۸۶ - درود ابراہیمی کا طریقہ

درود ابراہیمی پڑھنے کا مسنون طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۸۶

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ : أَمَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ نُصَلِّ عَلَيْكَ , فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ , وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ , فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , وَالسَّلَامُ كَمَا عَلِمْتُمْ " .

ابومسعود انصاری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بیٹھک میں ہمارے پاس تشریف لائے، تو آپ سے بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر کیسے صلاۃ (درود) بھیجیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہماری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش انہوں نے آپ سے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح صلاۃ (درود) بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر صلاۃ (درود) بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے آل ابراہیم پر تمام عالم میں برکتیں نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے) اور سلام بھیجنا تو تم جانتے ہی ہو“۔

سنن نسائی حدیث ۱۲۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تشریف لائے۔ بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ یعنی درود بھیجنے کا حکم دیا ہے، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے الفاظ سکھائے: اے اللہ! محمد اور آل محمد پر صلاۃ بھیج، جیسے تو نے آل ابراہیم پر صلاۃ بھیجی، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی۔ یہ حدیث درود ابراہیمی کے طریقے کو صاف انداز میں بتاتی ہے۔ صحابہ کا سوال بھی ادب سے تھا اور نبی صلى الله عليه وسلم کا جواب بھی امت کے لیے دعا کے الفاظ بن گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی بات معلوم نہ ہو تو ادب کے ساتھ پوچھنا چاہیے۔
  • درود ابراہیمی میں محمد صلى الله عليه وسلم اور آل محمد کے لیے رحمت و برکت کی دعا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کو درود کے الفاظ خود سکھائے۔
  • سلام کا طریقہ صحابہ پہلے جان چکے تھے، سوال درود کے بارے میں تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں