سنن نسائی حدیث ۱۲۹۰ - کعب بن عجرہ کا ہدیہ
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا درود والا ہدیہ
سنن نسائی : ۱۲۹۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۲۹۰
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَالَ لِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ : أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً , قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ السَّلَامُ عَلَيْكَ , فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
ابن ابی لیلیٰ روایت:
مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ (درود) کیسے بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”کہو «اللہم صل على محمد وآل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! درود بھیج محمد اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۲۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ پھر انہوں نے وہ واقعہ سنایا کہ صحابہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا: ہم آپ پر سلام کا طریقہ جان چکے ہیں، مگر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں درود کے الفاظ سکھائے: اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر درود بھیجا، بے شک تو حمید و مجید ہے، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی۔ اس حدیث میں درود ابراہیمی کو ایک قیمتی دینی ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، کیونکہ یہ الفاظ خود نبی صلى الله عليه وسلم سے سیکھے گئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھی دینی بات دوسروں کو ہدیہ کے انداز میں بتائی جا سکتی ہے۔
- درود کے الفاظ نبی صلى الله عليه وسلم سے سیکھنا صحابہ کا معمول تھا۔
- درود میں رحمت اور برکت دونوں کی دعا شامل ہے۔
- آل محمد کے لیے دعا کرنا اس روایت کے الفاظ میں موجود ہے۔
