سنن نسائی حدیث ۱۶۶۳ - رات کی نماز میں جہری اور سری قراءت

رات کی نماز میں جہری اور سری قراءت کا طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۶۳

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قال : سَأَلْتُ عَائِشَةَ " كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ ؟ قَالَتْ : كُلُّ ذَلِكَ , قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ " .

عبداللہ بن ابی قیس روایت:

میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری؟ تو انہوں نے کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن ابی قیس نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں قراءت کیسے کرتے تھے، کیا بلند آواز سے یا آہستہ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صاف جواب دیا کہ آپ دونوں طرح پڑھتے تھے، کبھی جہراً اور کبھی سرّاً۔ اس سے رات کی نماز میں قراءت کے بارے میں ایک آسان بات سامنے آتی ہے۔ متن کے مطابق نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ایک ہی صورت تک محدود نہیں تھا۔ کبھی آواز سے قرآن پڑھنا ثابت ہے اور کبھی آہستہ قرآن پڑھنا بھی ثابت ہے۔ اس لیے اس حدیث کا زیادہ تلاش ہونے والا لفظ “رات کی نماز میں قراءت” ہے، اور اس کے ساتھ جہری قراءت، سری قراءت، نماز تہجد کی قراءت جیسے الفاظ فطری طور پر آتے ہیں۔ حدیث میں کسی خاص مقدار یا وقت کا ذکر نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات کی نماز میں دونوں طرح کی قراءت منقول ہے۔
  • کبھی جہری قراءت اور کبھی سری قراءت کی گئی۔
  • سوال پوچھ کر سنت کا طریقہ جاننا صحابہ کا انداز تھا۔
  • حدیث میں قراءت کی مقدار نہیں، صرف آواز کا طریقہ بیان ہوا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں