سنن نسائی حدیث ۱۶۶۴ - بلند اور آہستہ قرآن پڑھنے کی مثال

بلند آواز اور آہستہ قرآن پڑھنے کی نبوی مثال

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۶۴

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ ، قال : حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الَّذِي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يَجْهَرُ بِالصَّدَقَةِ , وَالَّذِي يُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يُسِرُّ بِالصَّدَقَةِ " .

عقبہ بن عامر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جہر سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اعلان کر کے صدقہ کرتا ہے، اور جو آہستہ قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر چپکے سے صدقہ کرتا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی قراءت کو صدقہ کی دو صورتوں سے سمجھایا۔ جو جہر سے قرآن پڑھتا ہے، وہ اس شخص جیسا ہے جو اعلان کر کے صدقہ کرتا ہے۔ اور جو آہستہ قرآن پڑھتا ہے، وہ اس شخص جیسا ہے جو چھپا کر صدقہ کرتا ہے۔ یہاں حدیث کا مقصد دونوں اندازوں کو ایک سمجھنے کے قابل مثال سے واضح کرنا ہے۔ متن میں یہ نہیں کہا گیا کہ ایک ہر حال میں دوسرے سے بہتر ہے، بلکہ دونوں کے لیے ایک الگ مثال دی گئی ہے۔ اس لیے “جہر سے قرآن پڑھنا” اور “آہستہ قرآن پڑھنا” دونوں اہم تلاش کیے جانے والے الفاظ ہیں۔ ایک قاری اس حدیث سے یہ سیکھتا ہے کہ قرآن پڑھنے میں آواز کا انداز بھی نیت، موقع اور حالت کے مطابق سمجھا جا سکتا ہے، جیسے صدقہ کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی پوشیدہ۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جہر سے قرآن پڑھنے کو اعلانیہ صدقہ سے تشبیہ دی گئی۔
  • آہستہ قرآن پڑھنے کو پوشیدہ صدقہ سے تشبیہ دی گئی۔
  • حدیث دونوں اندازوں کو مثال کے ذریعے سمجھاتی ہے۔
  • متن میں کسی ایک انداز کو ہر جگہ لازم نہیں کہا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں