سنن نسائی حدیث ۱۶۶۵ - لمبی قراءت اور رکوع سجدہ کا توازن

قیام اللیل میں لمبی قراءت اور رکوع سجدہ کا انداز

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۶۵

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قال : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ , فَقُلْتُ : يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ فَمَضَى , فَقُلْتُ : يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَتَيْنِ فَمَضَى فَقُلْتُ : يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى ، فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا ، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ، ثُمَّ رَكَعَ , فَقَالَ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ يَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ " .

حذیفہ روایت:

میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ دو سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، تو میں نے اپنے جی میں کہا: آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورۃ پڑھ ڈالیں گے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورۃ نساء شروع کر دی، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورۃ آل عمران شروع کر دی، اور پوری پڑھ ڈالی، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح (پاکی) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور «سبحان ربي العظيم» ”پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے“ کہا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» ”پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے“ پڑھ رہے تھے، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات کی نماز کا حال بیان کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے سورۃ البقرہ شروع کی، پھر سورۃ النساء اور پھر آل عمران پڑھی۔ قراءت جلدی جلدی نہیں تھی بلکہ ٹھہر ٹھہر کر تھی۔ جب تسبیح والی آیت آتی تو تسبیح کرتے، سوال والی آیت آتی تو اللہ سے سوال کرتے، اور پناہ والی آیت آتی تو اللہ کی پناہ مانگتے۔ پھر رکوع کیا اور سبحان ربی العظیم کہا۔ رکوع، قیام کے قریب تھا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر سجدہ کیا اور سبحان ربی الاعلیٰ پڑھتے رہے۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ قیام اللیل ہے۔ اس میں لمبی قراءت، آیات پر مناسب جواب، رکوع سجدہ کی تسبیح، اور نماز میں ٹھہراؤ سب ایک ہی عبادت کے اندر نظر آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات کی نماز میں لمبی قراءت منقول ہے۔
  • قرآن کی آیات پر تسبیح، دعا اور تعوذ کیا گیا۔
  • رکوع اور سجدہ میں مخصوص تسبیحات پڑھی گئیں۔
  • نماز میں جلدی کے بجائے ٹھہراؤ کا انداز بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں