سنن نسائی حدیث ۱۸۶۷ - سر منڈانا اور واویلا ممنوع
غم میں واویلا اور کپڑے پھاڑنے سے بچنے کی تعلیم
سنن نسائی : ۱۸۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۶۷
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ , وَسَلَقَ , وَخَرَقَ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو سر منڈائے، واویلا کرے اور کپڑے پھاڑے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر مگر بہت واضح ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو سر منڈائے، واویلا کرے اور کپڑے پھاڑے۔ اس حدیث میں غم کے تین غلط انداز ذکر ہوئے ہیں۔ سر منڈانا بطور ماتم، بلند آواز سے واویلا کرنا اور کپڑے پھاڑنا، یہ سب صبر کے خلاف رویے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے دل میں غم نہ ہو، بلکہ بات یہ ہے کہ غم کو ایسے کاموں تک نہ لے جایا جائے جن سے بے صبری ظاہر ہو۔ حدیث کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ مصیبت میں مسلمان اپنے عمل اور زبان دونوں کو قابو میں رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سر منڈانا بطور ماتم درست نہیں۔
- واویلا اور چیخ و پکار سے پرہیز کرنا چاہیے۔
- کپڑے پھاڑنا غم کا شرعی طریقہ نہیں۔
- غم کے باوجود صبر اور وقار قائم رکھنا چاہیے۔
