سنن نسائی حدیث ۱۸۶۶ - ماتم کے غلط طریقوں سے بچاؤ

ماتم میں گال پیٹنے اور کپڑے پھاڑنے کی ممانعت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۶۶

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَبَكَتْ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ ، فَلَمَّا أَفَاقَ , قَالَ لَهَا : أَمَا بَلَغَكِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَسَأَلْنَاهَا , فَقَالَتْ : قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ , وَحَلَقَ , وَخَرَقَ " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ان پر غشی طاری ہوئی، تو ان کی ام ولد رو پڑی، جب (کچھ) افاقہ ہوا تو انہوں نے اس سے کہا: کیا تجھے وہ بات نہیں پہنچی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے؟ تو ہم نے اس سے پوچھا (آپ نے کیا فرمایا تھا؟) تو اس نے کہا: آپ نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، سر منڈائے، اور کپڑے پھاڑے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ان پر غشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولد رونے لگیں۔ افاقہ ہونے پر انہوں نے پوچھا کہ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں پہنچا؟ پھر بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، سر منڈائے اور کپڑے پھاڑے۔ یہ روایت غم اور ماتم کے بارے میں ایک صاف اصول دیتی ہے۔ غم انسان کے دل میں آتا ہے، مگر اسے ایسے کاموں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے جو شریعت نے منع کیے ہیں۔ خاص طور پر گال پیٹنا، سر منڈانا اور کپڑے پھاڑنا ایسے عمل ہیں جن سے مسلمان کو بچنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غم کے وقت جسم کو نقصان پہنچانے والے کام نہیں کرنے چاہئیں۔
  • گال پیٹنا اور کپڑے پھاڑنا ممنوع عمل ہیں۔
  • سر منڈانا بطور ماتم درست نہیں۔
  • دینی حکم معلوم ہو تو اسے دوسروں تک پہنچانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں