سنن نسائی حدیث ۱۸۶۳ - جاہلیت کی پکار سے ممانعت

گال پیٹنے اور جاہلیت کی پکار سے بچنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۶۳

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گال پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ہم میں سے نہیں“۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غم کے وقت تین کاموں سے سختی سے منع فرمایا: گال پیٹنا، گریباں پھاڑنا اور جاہلیت کی پکار پکارنا۔ یہ سب اعمال ایسے ہیں جن میں صبر کے بجائے بے قابو احتجاج اور پرانے جاہلی طریقوں کی جھلک آتی ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان مصیبت میں اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ رکھے، زبان کو غلط باتوں سے بچائے اور جسمانی حرکات میں بھی حد سے نہ بڑھے۔ موت یا کسی بڑے صدمے پر دل دکھتا ہے، مگر گال پیٹنا اور گریباں پھاڑنا درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو نوحہ کی ممانعت اور مصیبت میں صبر کے باب میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غم کے وقت گال پیٹنا منع ہے۔
  • گریباں پھاڑنا بے صبری کی علامت ہے، اس سے بچنا چاہیے۔
  • جاہلیت کی پکار یا غلط الفاظ کہنا درست نہیں۔
  • مصیبت میں مسلمان کا رویہ باوقار اور صبر والا ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں