سنن نسائی حدیث ۱۸۶۸ - نوحہ کرنے والوں پر وعید
واویلا، سر منڈوانے اور گریبان پھاڑنے پر سخت وعید
سنن نسائی : ۱۸۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۶۸
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، عَنِ الْقَرْثَعِ ، قَالَ : لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ , فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، ثُمَّ سَكَتَتْ ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ : أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ " .
قرثع روایت:
جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری بڑھ گئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کیا تجھے معلوم نہیں؟ اس نے کہا: کیوں، نہیں ضرور معلوم ہے، پھر وہ خاموش ہو گئی، تو اس سے اس کے بعد پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہر اس شخص پر) لعنت فرمائی ہے جو سر منڈوائے، یا واویلا کرے، یا گریبان پھاڑے۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۶۸ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری کا واقعہ آیا ہے۔ جب ان کی حالت سخت ہوئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگیں۔ حضرت ابوموسیٰ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد دلایا، تو وہ خاموش ہو گئیں۔ بعد میں جب پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا، تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی جو سر منڈوائے، واویلا کرے یا گریبان پھاڑے۔ اس حدیث میں نوحہ کی ممانعت بہت سخت انداز میں آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غم کے وقت ایسے کاموں سے بچنا ضروری ہے جن میں اللہ کے فیصلے پر بے قابو شکایت یا جاہلی انداز ظاہر ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- واویلا اور چیخ و پکار سے رک جانا چاہیے۔
- سر منڈوانا اور گریبان پھاڑنا سخت منع ہے۔
- دینی نصیحت سن کر فوراً اپنے عمل کو روکنا اچھی بات ہے۔
- مصیبت میں بھی زبان اور عمل کو شریعت کے تابع رکھنا چاہیے۔
