سنن نسائی حدیث ۱۸۶۴ - واویلا کرنے سے برات
واویلا، سر منڈانے اور کپڑے پھاڑنے سے برات
سنن نسائی : ۱۸۶۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۶۴
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَأَبِي بُرْدَةَ , قَالَا : لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَصِيحُ ، قَالَا : فَأَفَاقَ , فَقَالَ : أَلَمْ أُخْبِرْكِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَا : وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ , وَخَرَقَ , وَسَلَقَ " .
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ روایت:
جب ابوموسیٰ اشعری (کی بیماری) سخت ہوئی، تو ان کی عورت چلاتی ہوئی آئی۔ (ان کی بیماری میں کچھ) افاقہ ہوا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ میں ان چیزوں سے بری ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری تھے، ان دونوں نے ان کی بیوی سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میں اس شخص سے بری ہوں جو سر منڈائے، کپڑے پھاڑے اور واویلا کرے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۶۴ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری کا ذکر ہے۔ جب ان کی حالت سخت ہوئی تو ان کی اہلیہ چلاتی ہوئی آئیں۔ افاقہ ہونے پر انہوں نے انہیں یاد دلایا کہ وہ ان چیزوں سے بری ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری تھے۔ حدیث میں سر منڈانے، کپڑے پھاڑنے اور واویلا کرنے کا ذکر آیا ہے۔ اس سے یہ بات صاف سمجھ آتی ہے کہ موت، بیماری یا سخت غم کے وقت آواز بلند کر کے چیخنا، لباس پھاڑنا یا ایسے کام کرنا درست نہیں جو بے صبری ظاہر کریں۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ دینی بات کو اپنے گھر والوں تک بھی پہنچایا جائے، خاص طور پر ایسے موقع پر جب جذبات غالب آ رہے ہوں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر والوں کو غم کے آداب نرمی سے یاد دلانا چاہیے۔
- واویلا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف ہے۔
- مصیبت میں کپڑے پھاڑنا اور سر منڈانا منع ہے۔
- بیماری یا موت کے وقت بھی دینی حدود یاد رکھنی چاہئیں۔
