سنن نسائی حدیث ۱۸۶۵ - گال پیٹنے کی ممانعت
گال پیٹنا اور گریبان پھاڑنا کیوں منع ہے؟
سنن نسائی : ۱۸۶۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۶۵
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۶۵ کا خلاصہ
یہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔ اس میں غم کے ایسے انداز سے روکا گیا ہے جو حد سے بڑھا ہوا ہو۔ انسان کو تکلیف پہنچتی ہے، آنکھوں سے آنسو بھی آ سکتے ہیں، لیکن گال پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور ایسی پکار لگانا جو جاہلیت کے طریقے سے ملتی ہو، درست نہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کے غم میں بھی ایمان، ادب اور صبر نظر آنا چاہیے۔ مصیبت آئے تو زبان اور عمل دونوں کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گال پیٹنا غم کے صحیح آداب میں شامل نہیں۔
- گریبان پھاڑنا بے صبری کا عمل ہے۔
- جاہلیت والی پکار سے زبان کو بچانا چاہیے۔
- مصیبت میں صبر اور ضبط مسلمان کی پہچان ہے۔
