سنن نسائی حدیث ۱۹۱۳ - صحابہ کا جنازے کے ساتھ تیز چلنا

جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلنا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۱۳

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، قال : " شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ السَّرِيرِ , فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَوَالِيهِمْ يَسْتَقْبِلُونَ السَّرِيرَ وَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ وَيَقُولُونَ : رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ , فَكَانُوا يَدِبُّونَ دَبِيبًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ , وَقَالَ : خَلُّوا , فَوَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا فَانْبَسَطَ الْقَوْمُ " .

عبدالرحمٰن بن جوشن روایت:

میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں موجود تھا، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: آہستہ چلو، آہستہ چلو، اللہ تمہیں برکت دے، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک خچر پر (سوار) ملے، جب انہوں نے انہیں (ایسا) کرتے دیکھا، تو اپنے خچر پر (سوار) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا، اور کہا: قسم! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے، تو لوگ (یہ سن کر) خوش ہوئے۔

سنن نسائی حدیث ۱۹۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ کچھ لوگ چارپائی کے سامنے اپنی ایڑیوں کے بل چل رہے تھے اور آہستہ چلنے کو کہہ رہے تھے۔ راستے میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ملے۔ انہوں نے جب یہ انداز دیکھا تو سختی سے توجہ دلائی اور قسم کھا کر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے تھے۔ یہ بات سن کر لوگ خوش ہوئے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع جنازے کی رفتار ہے۔ متن میں صحابہ کے عملی مشاہدے کا ذکر ہے، اس لیے اسے جنازے کو بلا وجہ بہت آہستہ کرنے کے مقابلے میں سمجھا جا سکتا ہے، مگر بے ادبی یا دھکم پیل مراد نہیں لینی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنازے کے ساتھ بہت سستی سے چلنے کی اصلاح کی گئی۔
  • ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مشاہدہ نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ بیان کیا۔
  • جنازے میں جلدی کی سنت کو صحابہ نے یاد رکھا۔
  • اصلاح کرتے وقت اصل دلیل حدیث اور عمل نبوی ہونا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں