سنن نسائی حدیث ۱۹۱۴ - نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ جنازے میں تیز چال

نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ جنازے کی تیز چال

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۱۴

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُشَيْمٌ , عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قال : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا " , وَاللَّفْظُ حَدِيثُ هُشَيْمٍ .

ابوبکرہ روایت:

میں نے (صحابہ کرام) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں۔

سنن نسائی حدیث ۱۹۱۴ کا خلاصہ

یہ روایت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بہت مختصر الفاظ میں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے تھے۔ روایت میں “تقریباً” کا مفہوم اہم ہے، کیونکہ اس سے جنازے کے ساتھ تیز چال کا انداز معلوم ہوتا ہے، نہ کہ بے ترتیب بھاگنا۔ یہ حدیث جنازے کو جلد لے جانے کی دوسری روایات سے معنی میں ملتی ہے۔ اس کا مقصد یہ سمجھ آتا ہے کہ جنازہ اٹھانے کے بعد اسے بلا وجہ سست نہ کیا جائے۔ چونکہ متن بہت مختصر ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے: نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ جنازے میں ایک تیز اور سنجیدہ چال اختیار کی جاتی تھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنازے کے ساتھ تیز چال کا عمل صحابی نے نقل کیا۔
  • روایت مختصر ہے، اس لیے اس سے زائد تفصیل نہیں نکالنی چاہیے۔
  • جنازہ اٹھانے کے بعد بلا وجہ سستی مناسب نہیں لگتی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں