سنن نسائی حدیث ۲۱۴۲ - قمری مہینے کی گنتی
قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے
سنن نسائی : ۲۱۴۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۴۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ ، هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، (ایسا تین بار کیا) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع قمری مہینے کی گنتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم امی لوگ ہیں، نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں، اور مہینہ کبھی اس طرح ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کے اشارے سے انتیس دن کا ذکر فرمایا۔ اس سے روزہ، رمضان کا چاند، قمری مہینہ اور مہینے کے دن جیسے اہم مسائل کی اصل سادگی سمجھ آتی ہے۔ حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مہینے کو لازماً تیس دن سمجھنا درست نہیں، بلکہ قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔ اس بیان میں امت کے لیے آسانی ہے کہ مہینے کی پہچان پیچیدہ حساب کے بجائے واضح طریقے سے سمجھائی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
- دینی بات کو آسان انداز میں سمجھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
- رمضان اور دوسرے قمری مہینوں میں دنوں کی تعداد ایک جیسی لازم نہیں ہوتی۔
