سنن نسائی حدیث ۲۱۴۳ - مہینہ انتیس یا تیس دن
قمری مہینہ انتیس بھی اور تیس بھی
سنن نسائی : ۲۱۴۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۴۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَحْسُبُ وَلَا نَكْتُبُ ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " ، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا تَمَامَ الثَّلَاثِينَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا، ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں قمری مہینے کے دنوں کی گنتی کو بہت سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم امی لوگ ہیں، نہ حساب کرتے ہیں نہ لکھتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کے اشارے سے بتایا کہ مہینہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی پورے تیس دن کا۔ اس سے رمضان کا چاند، روزے کا آغاز، عید کا چاند اور اسلامی مہینے کی گنتی کا ایک بنیادی اصول معلوم ہوتا ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر مہینہ انتیس دن ہی ہوگا یا ہر مہینہ تیس دن ہی ہوگا، بلکہ دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یہی بات عوام کے لیے آسان فہم انداز میں سمجھائی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ کبھی انتیس اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی بات ہاتھ کے اشارے سے بھی آسان بنا کر سمجھائی۔
- اسلامی مہینوں کی گنتی میں تیس دن کو ہر حال میں لازم نہیں سمجھنا چاہیے۔
