سنن نسائی حدیث ۲۱۴۴ - انتیس دن کا مہینہ
قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے
سنن نسائی : ۲۱۴۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۴۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا " ، وَوَصَفَ شُعْبَةُ ، عَنْ صِفَةِ جَبَلَةَ ، عَنْ صِفَةِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فِيمَا حَكَى مِنْ صَنِيعِهِ مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ ، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا مِنْ أَصَابِعِ يَدَيْهِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے“۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۴۴ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قمری مہینے کی مدت بیان ہوئی ہے۔ روایت کے مطابق مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، اور اسے ہاتھ کی انگلیوں کے اشارے سے سمجھایا گیا۔ دو بار دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا گیا، پھر تیسری بار ایک انگلی کم کر دی گئی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی مہینے کی گنتی میں انتیس دن ایک معروف اور درست صورت ہے۔ یہ حدیث رمضان، روزہ، عید اور چاند دیکھنے کے مسئلے سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ ان سب کا تعلق قمری مہینے سے ہے۔ حدیث کا انداز بہت آسان ہے تاکہ ہر شخص سمجھ سکے کہ مہینے کی تعداد ہر بار ایک جیسی نہیں ہوتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلامی مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
- قمری مہینوں میں دنوں کی کمی بیشی ایک معمول کی بات ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اشارے سے بات سمجھائی۔
