سنن نسائی حدیث ۲۱۴۵ - مہینہ انتیس دن
اسلامی مہینہ ہمیشہ تیس دن نہیں ہوتا
سنن نسائی : ۲۱۴۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۴۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ يَعْنِي ابْنَ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۴۵ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اس سے قمری مہینہ، رمضان کا چاند اور اسلامی تاریخ کے بارے میں ایک بنیادی بات معلوم ہوتی ہے۔ عام طور پر لوگ مہینے کو تیس دن سمجھتے ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قمری مہینہ کبھی انتیس دن پر بھی ختم ہو سکتا ہے۔ اسی لیے روزہ، عید اور دوسرے قمری احکام میں مہینے کی مدت کو صرف ایک مقرر عدد تک محدود نہیں کیا جاتا۔ حدیث ہمیں سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ اسلامی مہینے کی گنتی میں انتیس دن بھی معتبر ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ انتیس دن پر ختم ہو سکتا ہے۔
- ہر اسلامی مہینہ لازماً تیس دن کا نہیں ہوتا۔
- رمضان اور عید جیسے معاملات قمری مہینے سے وابستہ ہیں۔
