سنن نسائی حدیث ۲۳۴۱ - فجر سے پہلے دل کا پختہ ارادہ
فجر سے پہلے دل میں روزے کی پختہ نیت
سنن نسائی : ۲۳۴۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۳۴۱
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ " .
حفصہ روایت:
اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔
سنن نسائی حدیث ۲۳۴۱ کا خلاصہ
اس آخری روایت میں بھی ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا قول نقل ہوا ہے کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔ یہ بات کئی روایتوں میں قریب قریب ایک ہی مفہوم کے ساتھ آئی ہے، جس سے نیت کے مضمون کی تکرار سامنے آتی ہے۔ مگر یہاں بھی ہمیں متن ہی پر رہنا ہے: روزہ کی پختہ نیت فجر سے پہلے ہو۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ زبان سے مخصوص الفاظ ضرور کہے جائیں؛ متن میں پختہ ارادہ کا ذکر ہے۔ اس لیے آسان الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ روزہ رکھنے کا فیصلہ فجر سے پہلے دل میں واضح ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں پختہ نیت کا لفظ آیا ہے۔
- فجر سے پہلے نیت کرنے کا وقت بیان ہوا ہے۔
- متن میں زبان کے خاص الفاظ کا ذکر نہیں، بلکہ ارادے کا ذکر ہے۔
- ایک ہی مضمون کئی روایتوں میں نقل ہوا ہے۔
