سنن نسائی حدیث ۲۴۵۶ - جانوروں اور مال کا حق
اونٹ، گائے، بکری اور مال کا حق
سنن نسائی : ۲۴۵۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۵۶
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا ، إِلَّا وُقِفَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الْأَظْلَافِ بِأَظْلَافِهَا ، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقُرُونِ بِقُرُونِهَا ، لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ " , قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَمَاذَا حَقُّهَا ؟ قَالَ : " إِطْرَاقُ فَحْلِهَا ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ ، إِلَّا يُخَيَّلُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يَتَّبِعُهُ ، يَقُولُ لَهُ هَذَا كَنْزُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اونٹ، گائے اور بکری والا ان کا حق ادا نہیں کرے گا، (یعنی زکاۃ نہیں ادا کرے گا) تو اسے قیامت کے دن ایک کشادہ ہموار میدان میں کھڑا کیا جائے گا، کھر والے جانور اپنے کھروں سے اسے روندیں گے، اور سینگ والے اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے۔ اس دن ان میں کوئی ایسا نہ ہو گا جس کے سینگ ہی نہ ہو اور نہ ہی کسی کی سینگ ٹوٹی ہوئی ہو گی“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر نر کودوانا، ان کے ڈول کو منگنی دینا اور اللہ کی راہ میں ان پر بوجھ اور سواری لادنا، اور جو صاحب مال اپنے مال کا حق ادا نہ کرے گا وہ مال قیامت کے دن ایک گنجے (زہریلے) سانپ کی شکل میں اسے دکھائی پڑے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا پیچھا کرے گا، اور اس سے کہے گا: یہ تو تیرا وہ خزانہ ہے جس کے ساتھ تو بخل کرتا تھا، جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو (لاچار ہو کر) اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا، اور وہ اس کو اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ چباتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں جانوروں اور مال کے حق کو بہت مضبوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جس کے پاس اونٹ، گائے یا بکری ہو اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے ایک کھلے ہموار میدان میں کھڑا کیا جائے گا۔ کھر والے جانور اسے روندیں گے اور سینگ والے اسے سینگوں سے ماریں گے۔ اس دن ان میں کوئی بغیر سینگ یا ٹوٹی سینگ والا نہ ہو گا۔ صحابہ نے پوچھا کہ ان کا حق کیا ہے؟ آپ نے نر جانور دینے، ڈول عاریت دینے اور اللہ کی راہ میں ان پر بوجھ یا سواری لادنے کا ذکر فرمایا۔ پھر مال کے حق نہ دینے والے کے لیے گنجے سانپ کا بیان آیا۔ یہ حدیث زکاۃ، مال کا حق اور جانوروں کے حقوق کو ایک ساتھ یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جانوروں کے مال میں زکاۃ کے ساتھ دوسرے حقوق بھی بیان ہوئے ہیں۔
- مال کا حق روکنا قیامت میں سخت مواخذے کا سبب بن سکتا ہے۔
- جانوروں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ان کے ذریعے دوسروں کو فائدہ دینا بھی آیا ہے۔
- بخل کیا ہوا خزانہ قیامت میں وبال بن سکتا ہے۔
