سنن نسائی حدیث ۲۴۴۳ - مال کا حق نہ دینے کی سزا
مال کا حق نہ دینے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۴۴۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۴۳
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ ، إِلَّا جُعِلَ لَهُ طَوْقًا فِي عُنُقِهِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180 " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے (یعنی زکاۃ نہ دے) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بھاگے گا، اور وہ (سانپ) اس کے ساتھ ہو گا“،پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی «ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ”تم یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے بخیلی کرتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے، یہ بہت برا ہے ان کے لیے۔ عنقریب جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا ہو گا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا“ (آل عمران: ۱۸)۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں زکاۃ اور مال کے حق کا بہت واضح بیان ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اس مال کا حق ادا نہ کرے تو وہ مال قیامت کے دن گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا۔ وہ انسان اس سے بھاگے گا، مگر وہ سانپ اس کے ساتھ رہے گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی آیت پڑھ کر اس بات کی تصدیق فرمائی کہ جو لوگ اللہ کے دیے ہوئے مال میں بخل کرتے ہیں، وہ ان کے لیے بہتر نہیں بلکہ برا ہے۔ یہ حدیث زکاۃ نہ دینے کا انجام، بخل کی خرابی اور مال کی ذمہ داری کو بہت صاف لفظوں میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کا حق ادا نہ کرنا بخل میں شامل ہو سکتا ہے۔
- زکاۃ روکنے والے کے لیے قیامت کی سخت وعید آئی ہے۔
- قرآن اور حدیث دونوں مال کے حق کی تاکید کرتے ہیں۔
- اللہ کا دیا ہوا مال امانت سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔
