سنن نسائی حدیث ۲۴۵۸ - مویشیوں کی زکاۃ نہ دینے کی وعید
مویشیوں کی زکاۃ نہ دینے کا انجام
سنن نسائی : ۲۴۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۵۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ ، وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا أَعَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " .
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اونٹ گائے اور بکریاں رکھتا ہو اور ان کی زکاۃ نہ دے تو وہ دنیا میں جیسے تھے اس سے بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے، اور وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے، اور اپنی کھروں سے روندیں گے، جب آخری جانور مار چکے گا تو پھر پہلا جانور لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں اونٹ، گائے اور بکریوں کی زکاۃ نہ دینے پر سخت تنبیہ ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اونٹ، گائے اور بکریاں رکھتا ہو اور ان کی زکاۃ نہ دے، تو قیامت کے دن وہ جانور دنیا سے زیادہ بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے۔ وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے اور اپنے کھروں سے روندیں گے۔ جب آخری جانور مار چکے گا تو پہلا دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ یہ سلسلہ لوگوں کے درمیان فیصلے تک جاری رہے گا۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ مویشیوں کی زکاۃ صرف ایک مالی حساب نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے جواب دہی کا معاملہ ہے۔ جو مال انسان کے پاس ہے، اس میں مقرر حق بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مویشیوں کی زکاۃ ادا کرنا ضروری ذمہ داری ہے۔
- زکاۃ نہ دینے کا انجام قیامت میں سخت ہو سکتا ہے۔
- جانوروں کے مال کا حساب بھی اللہ کے سامنے ہو گا۔
- مال کے حق کو معمولی سمجھنا خطرناک ہے۔
