سنن نسائی حدیث ۲۴۷۹ - دو سو میں پانچ زکاۃ

ہر دو سو میں پانچ زکاۃ ادا کرنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۷۹

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، فَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ مِنْ كُلِّ مِائَتَيْنِ خَمْسَةً " .

علی روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، تو تم اپنے مالوں کی زکاۃ ہر دو سو میں سے پانچ یعنی چالیسواں حصہ دو“۔

سنن نسائی حدیث ۲۴۷۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، لہٰذا تم اپنے مالوں کی زکاۃ ہر دو سو میں سے پانچ دو۔ اس روایت میں دو باتیں صاف ہیں۔ پہلی یہ کہ گھوڑے اور غلام کو زکاۃ سے معاف کیا گیا۔ دوسری یہ کہ مال کی زکاۃ میں دو سو پر پانچ کا حکم بیان ہوا، یعنی چالیسواں حصہ۔ اس سے زکاۃ مال کا بنیادی حساب سمجھ آتا ہے۔ زکاۃ مال، چاندی کی زکاۃ، دو سو درہم کا نصاب اور چالیسواں حصہ زکاۃ جیسے الفاظ اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھوڑے اور غلام کو اس حدیث میں زکاۃ سے معاف بتایا گیا ہے۔
  • مال کی زکاۃ میں ہر دو سو میں پانچ کا حکم آیا ہے۔
  • زکاۃ کا حساب واضح مقدار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
  • واجب مال ادا کرنا مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں