سنن نسائی حدیث ۲۴۸۰ - دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں
دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہ ہونے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۴۸۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۴۸۰
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ " .
علی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۴۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ یہ روایت زکاۃ کے نصاب کو مختصر مگر واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں پہلے گھوڑے اور غلام کی معافی کا ذکر ہے، پھر دو سو درہم سے کم مال پر زکاۃ نہ ہونے کی بات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکاۃ کے لیے مال کا ایک مقرر نصاب ہے۔ دو سو درہم کا نصاب، چاندی کی زکاۃ، زکاۃ کا حساب اور زکاۃ سے مستثنیٰ مال جیسے موضوعات اس حدیث سے متعلق ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہ ہونے کا حکم آیا ہے۔
- گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف بتائی گئی ہے۔
- زکاۃ کے لیے نصاب کا علم ضروری ہے۔
- مالی حکم کو حدیث کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
