سنن نسائی حدیث ۲۶۰۲ - مال کی حرص اور برکت
مال کی حرص نہیں، قناعت میں برکت ہے
سنن نسائی : ۲۶۰۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۰۲
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَكِيمُ , إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
حکیم بن حزام روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت ملے گی، اور جو شخص اسے نفس کی حرص و طمع سے لے گا تو اس میں اسے برکت نہیں دی جائے گی۔ وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ (جان لو) اوپر والا (یعنی دینے والا) ہاتھ نیچے والے (یعنی لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو مال کے بارے میں بہت صاف نصیحت فرمائی۔ آپ نے بتایا کہ مال دیکھنے میں ہرا بھرا اور میٹھا لگتا ہے، یعنی دل اسے پسند کرتا ہے اور انسان اس کی طرف کھنچتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ آدمی مال کس نیت اور کس کیفیت سے لیتا ہے۔ جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ہوتی ہے۔ اور جو اسے نفس کی حرص، لالچ اور طمع کے ساتھ لیتا ہے، اسے سکون اور برکت نہیں ملتی۔ وہ کھاتا رہتا ہے مگر پیٹ نہیں بھرتا۔ اس حدیث کا اہم سبق یہ بھی ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اس لیے مسلمان کو قناعت، پاک نیت اور سخاوت کا مزاج اپنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال اپنی جگہ پر دل کو بھانے والی چیز ہے، مگر اصل قدر برکت کی ہے۔
- حرص کے ساتھ لیا گیا مال انسان کو مطمئن نہیں کرتا۔
- دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر بتایا گیا ہے۔
- مال لیتے وقت دل کی پاکیزگی اور قناعت کا خیال رکھنا چاہیے۔
