سنن نسائی حدیث ۲۶۰۳ - مال کی مٹھاس اور آزمائش
مال کی مٹھاس اور دل کی آزمائش
سنن نسائی : ۲۶۰۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۰۳
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي , ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَكِيمُ , إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، مَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ النَّفْسِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
حکیم بن حزام روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”حکیم! یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے۔ جو اسے طبیعت کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو نفس کی حرص و لالچ کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہو لیکن آسودہ نہ ہوتا ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۰۳ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی اہم نصیحت بیان ہوئی ہے کہ مال انسان کے لیے پرکشش چیز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو مال اچھا لگتا ہے، وہ اسے حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن ہر مال فائدہ دینے والا نہیں ہوتا۔ اگر آدمی اسے طبیعت کی فیاضی، صاف دل اور بغیر حرص کے لے تو اللہ اس میں برکت دیتا ہے۔ لیکن اگر نفس کی حرص اور لالچ کے ساتھ لے تو اسے برکت نہیں ملتی۔ وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے کھاتا رہے مگر آسودہ نہ ہو۔ اس حدیث میں قناعت، حلال طریقے، دل کی صفائی اور صدقہ کی ترغیب صاف طور پر موجود ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ اوپر والا ہاتھ، یعنی دینے والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال دل کو اچھا لگتا ہے، اس لیے اس کے معاملے میں احتیاط چاہیے۔
- بغیر حرص کے ملنے والا مال برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
- لالچ انسان کو آسودگی سے دور کر دیتا ہے۔
- دینے کی عادت لینے کی عادت سے بہتر ہے۔
