سنن نسائی حدیث ۲۶۲۴ - قبول حج کی عظیم فضیلت

حج مبرور کا ثواب اور عمرہ کا کفارہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۴

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُور ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ , عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَجَّةُ الْمَبْرُورَةُ لَيْسَ لَهَا ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةُ ، مِثْلَهُ سَوَاءً ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور (مقبول) کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے“، اس سے آگے پہلے کی حدیث کے مثل ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اس میں «كفارة لما بينهما» کے بجائے «تكفر ما بينهما» کا لفظ آیا ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۲۴ کا خلاصہ

اس روایت میں بھی حج مبرور کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں۔ روایت میں عمرہ کے بارے میں بھی وہی مضمون آیا ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ لفظ کا فرق آیا ہے، مگر مطلب یہی ہے کہ عمرہ گناہوں کے کفارے کا سبب بنتا ہے۔ یہ حدیث حاجی اور عمرہ کرنے والے کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اصل مقصد اللہ کی رضا اور قبولیت ہے۔ حج مبرور وہی ہے جس کا انجام اللہ کے ہاں خیر ہو۔ اس لیے حج و عمرہ کے سفر میں آدمی کو اپنے عمل، زبان اور نیت کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج مبرور کا ثواب جنت بتایا گیا ہے۔
  • عمرہ سے عمرہ کے درمیان گناہوں کے مٹنے کا ذکر ہے۔
  • قبولیت والا عمل مسلمان کے لیے اصل کامیابی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں