سنن نسائی حدیث ۲۶۳۰ - عمرہ کا کفارہ اور حج کا اجر
عمرہ سے عمرہ تک گناہوں کا کفارہ
سنن نسائی : ۲۶۳۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۳۰
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمرہ اور حج مبرور دونوں کی فضیلت ایک ساتھ بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ حدیث کا انداز بہت واضح ہے۔ عمرہ مسلمان کے لیے بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ذریعہ بنتا ہے، اور حج مبرور ایسا عمل ہے جس کی جزا جنت بتائی گئی ہے۔ اس سے دل میں یہ بات بیٹھتی ہے کہ حج و عمرہ کے سفر کو صرف رسم نہیں سمجھنا چاہیے۔ عمرہ کی فضیلت بھی بڑی ہے اور حج مبرور کی منزل بھی بہت بلند ہے۔ مسلمان کو ان اعمال میں اخلاص اور احتیاط اختیار کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے۔
- حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا نہیں۔
- حج و عمرہ کو اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
