سنن نسائی حدیث ۲۶۳۱ - حج و عمرہ فقر اور گناہ دور کرتے ہیں
حج و عمرہ فقر اور گناہ دور کرتے ہیں
سنن نسائی : ۲۶۳۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۳۱
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاس : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ کو ساتھ ساتھ کرنے کی ترغیب دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے۔ حدیث میں حج و عمرہ کی ایک خاص تاثیر بیان ہوئی ہے۔ بھٹی کی مثال بہت آسان ہے: جیسے آگ میں لوہے کی میل الگ ہو جاتی ہے، اسی طرح حج و عمرہ انسان کے لیے فقر اور گناہوں کے دور ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ اس حدیث سے حج و عمرہ کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی کہ مسلمان کو ان عبادات کو اہم سمجھنا چاہیے۔ البتہ یہ بات حدیث کے الفاظ تک ہی رکھی جائے گی کہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو دور کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج اور عمرہ کو ساتھ ساتھ کرنے کی ترغیب دی گئی۔
- حدیث میں حج و عمرہ کو فقر اور گناہوں کے دور ہونے کا سبب بتایا گیا۔
- بھٹی کی مثال سے گناہوں کی میل دور ہونے کا مطلب سمجھایا گیا۔
