سنن نسائی حدیث ۲۶۳۲ - حج و عمرہ کی پاکیزہ تاثیر

حج و عمرہ گناہوں کی میل دور کرتے ہیں

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۳۲

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوب ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجِّ الْمَبْرُورِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں حج و عمرہ کی فضیلت بڑی خوبصورت مثال کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو دور کر دیتے ہیں، جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ آخر میں فرمایا کہ حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں۔ اس حدیث میں دو باتیں ایک ساتھ آئیں: حج و عمرہ گناہوں اور فقر کے دور ہونے کا سبب ہیں، اور حج مبرور کی جزا جنت ہے۔ مثال سے بات بہت واضح ہو جاتی ہے کہ جیسے قیمتی دھات میل صاف ہونے سے نکھر جاتی ہے، اسی طرح یہ عبادات بندے کے لیے پاکیزگی کا سبب بنتی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج و عمرہ کو فقر اور گناہوں کے دور ہونے کا سبب بتایا گیا۔
  • بھٹی کی مثال سے پاکیزگی کا مفہوم سمجھایا گیا۔
  • حج مبرور کا ثواب جنت بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں