سنن نسائی حدیث ۲۶۳۳ - فوت شدہ کی نذر حج ادا کرنا
فوت شدہ کی نذر حج ادا کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۶۳۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۳۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَة ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاقْضُوا اللَّهَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک عورت نے حج کی نذر مانی، پھر (حج کئے بغیر) مر گئی، اس کا بھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں میں ادا کرتا، آپ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کرو وہ تو اور بھی ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نذر حج کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ ایک عورت نے حج کی نذر مانی، پھر حج کیے بغیر وفات پا گئی۔ اس کا بھائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرض ادا کرو، وہ وفا کا زیادہ حق دار ہے۔ حدیث میں حج کی نذر کو قرض کی مثال سے سمجھایا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو دینی ذمہ داری انسان پر لازم ہو اور وہ فوت ہو جائے، تو اس کے بارے میں اہل خانہ کو مسئلہ معلوم کر کے ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کی نذر کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
- فوت شدہ کے دینی حق کے بارے میں پوچھ کر عمل کرنا چاہیے۔
- حدیث میں اللہ کے حق کو ادائیگی کا زیادہ مستحق بتایا گیا۔
