سنن نسائی حدیث ۲۶۳۴ - ماں کی طرف سے حج ادا کرنا
ماں کی طرف سے حج کرنے کا مسئلہ
سنن نسائی : ۲۶۳۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۳۴
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَال : حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : أَمَرَتِ امْرَأَةٌ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ أُمَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا ، قَالَ : " نَعَمْ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ فَقَضَتْهُ عَنْهَا أَلَمْ يَكُنْ يُجْزِئُ عَنْهَا ؟ فَلْتَحُجَّ عَنْ أُمِّهَا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک عورت نے سنان بن سلمہ جہنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ میری ماں مر گئی ہے اور اس نے حج نہیں کیا ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں تو اسے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اگر اس کی ماں پر قرض ہوتا اور وہ اس کی جانب سے ادا کرتی تو کیا یہ اس کی طرف سے کافی نہ ہو جاتا؟ لہٰذا اسے اپنی ماں کی طرف سے حج کرنا چاہیئے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ماں کی طرف سے حج کرنے کا مسئلہ آیا ہے۔ ایک عورت نے سوال کروایا کہ میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس نے حج نہیں کیا، کیا میں اس کی طرف سے حج کروں تو کافی ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کی مثال دے کر جواب دیا۔ فرمایا کہ اگر اس کی ماں پر قرض ہوتا اور وہ اس کی طرف سے ادا کرتی تو کیا کافی نہ ہو جاتا؟ پھر فرمایا کہ اسے اپنی ماں کی طرف سے حج کرنا چاہیے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فوت شدہ والدہ کے ذمے حج باقی ہو تو اولاد اس کی طرف سے حج کر سکتی ہے۔ حدیث میں دینی ذمہ داری کو سمجھانے کے لیے عام قرض کی مثال دی گئی ہے تاکہ بات آسانی سے سمجھ آ جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فوت شدہ ماں کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو قرض کی مثال سے سمجھایا۔
- اولاد کو والدین کے دینی حقوق کی فکر کرنی چاہیے۔
