سنن نسائی حدیث ۲۶۳۵ - فوت شدہ والد کی طرف سے حج

فوت شدہ والد کی طرف سے حج کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۳۵

أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهَا مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ ، قَالَ : " حُجِّي عَنْ أَبِيكِ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کے بارے میں جو مر گئے تھے اور حج نہیں کیا تھا پوچھا: آپ نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو“۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کے بارے میں پوچھا جو وفات پا گئے تھے اور حج نہیں کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔ حدیث مختصر ہے مگر اس کا پیغام واضح ہے۔ اگر والد کے ذمے حج باقی ہو اور وہ فوت ہو جائیں تو ان کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔ اس میں اولاد کی ذمہ داری اور والدین کے حق کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھا جائے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوت شدہ والد کی طرف سے حج کرنے کی اجازت دی بلکہ حکم فرمایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فوت شدہ والد کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔
  • والدین کے دینی حق کو ادا کرنے کی فکر ہونی چاہیے۔
  • دینی مسئلہ واضح نہ ہو تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں