سنن نسائی حدیث ۲۶۴۰ - اللہ کا قرض زیادہ حق دار ہے
فوت شدہ والد کا حج اور اللہ کا قرض
سنن نسائی : ۲۶۴۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۴۰
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر کچھ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں (میں ادا کرتا) تو آپ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے جواب میں قرض کی مثال دی۔ فرمایا کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کیے جانے کا زیادہ مستحق ہے۔ اس حدیث میں فوت شدہ والد کی طرف سے حج کرنے کا مسئلہ بہت واضح انداز میں آیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ دینی ذمہ داری کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر دنیا کا قرض ادا کیا جاتا ہے تو اللہ کا حق اس سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فوت شدہ والد کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔
- اللہ کے حق کو ادائیگی کا زیادہ مستحق بتایا گیا۔
- دینی ذمہ داری کو قرض کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
