سنن نسائی حدیث ۲۶۴۱ - سواری پر نہ ٹھہرنے والے والد کا حج
کمزور والد کی طرف سے حج کرنے کا حکم
سنن نسائی : ۲۶۴۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۴۱
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ ، أَكَانَ مُجْزِئًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے باپ کو (فریضہ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے، تو وہ کافی ہو جاتا“؟ اس نے کہا: ہاں (کافی ہو جاتا) آپ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے بتایا کہ میرے والد پر حج کا فریضہ آیا ہے، مگر وہ بہت بوڑھے ہیں، اپنی سواری پر قائم نہیں رہ سکتے۔ اگر میں انہیں باندھ دوں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ فوت نہ ہو جائیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کی مثال دی کہ اگر ان پر قرض ہوتا اور تم ادا کرتے تو کیا کافی ہو جاتا؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ اس حدیث میں عذر کی شدت بھی بیان ہوئی ہے اور حج بدل کی اجازت بھی واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انتہائی کمزور والد کی طرف سے حج کرنا جائز بتایا گیا۔
- قرض کی مثال سے حج کے فریضے کی ادائیگی سمجھائی گئی۔
- دین میں سوال کرنے والے کے اصل حال کو سامنے رکھ کر رہنمائی دی گئی۔
