سنن نسائی حدیث ۲۶۲۹ - عورتوں کے لیے بہترین جہاد

عورتوں کے لیے حج مبرور بہترین جہاد

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۹

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حَبِيبٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ , قَالَت : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَلَا نَخْرُجُ فَنُجَاهِدَ مَعَكَ فَإِنِّي لَا أَرَى عَمَلًا فِي الْقُرْآنِ أَفْضَلَ مِنَ الْجِهَادِ ، قَالَ : " لَا وَلَكُنَّ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ حَجُّ الْبَيْتِ حَجٌّ مَبْرُورٌ " .

عائشہ روایت:

میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم نکل کر آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں کیونکہ میں قرآن میں جہاد سے زیادہ افضل کوئی عمل نہیں دیکھتی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے بہتر اور کامیاب جہاد بیت اللہ کا حج مبرور (مقبول) ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں نکلنے کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ قرآن میں جہاد سے افضل کوئی عمل نہیں دیکھتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تمہارے لیے سب سے بہتر اور خوبصورت جہاد بیت اللہ کا حج مبرور ہے۔ اس حدیث میں عورتوں کے لیے حج مبرور کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابیات دین کے بڑے اعمال کی خواہش رکھتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے وہ عمل بیان فرمایا جو ان کے حق میں بہترین قرار دیا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ حج مبرور عورت کے لیے بہت عظیم نیکی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عورتوں کے لیے حج مبرور کو بہترین جہاد کہا گیا۔
  • صحابیات رضی اللہ عنہن نیکی کے بڑے کاموں کی خواہش رکھتی تھیں۔
  • ہر شخص کے لیے نیکی کا راستہ اس کے حال کے مطابق ہو سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں