سنن نسائی حدیث ۲۶۲۷ - کمزوروں اور عورتوں کا جہاد

بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد حج و عمرہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۷

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جِهَادُ الْكَبِيرِ ، وَالصَّغِيرِ ، وَالضَّعِيفِ ، وَالْمَرْأَةِ ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بوڑھے، بچے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بوڑھے، بچے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔ حدیث میں ہر شخص کے حالات کا لحاظ نظر آتا ہے۔ جو لوگ عام جہاد کی مشقت کے اہل نہیں ہوتے، ان کے لیے حج و عمرہ جیسے عظیم عمل کا ذکر کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حج و عمرہ آسانی سے خالی ہے، بلکہ اس میں سفر، صبر، عبادت اور نفس پر قابو کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حدیث سے حج و عمرہ کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی کہ شریعت کمزور لوگوں کے حال کو نظر انداز نہیں کرتی۔ ہر مسلمان اپنے حالات کے مطابق نیکی کے دروازے تلاش کر سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بوڑھے، بچے، کمزور اور عورت کے لیے حج و عمرہ کو جہاد کہا گیا۔
  • حج و عمرہ میں صبر، محنت اور عبادت شامل ہے۔
  • دین انسان کے حالات اور طاقت کا لحاظ کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں