سنن نسائی حدیث ۲۶۲۶ - حاجی اور عمرہ کرنے والے اللہ کے وفد
حاجی اور عمرہ کرنے والے اللہ کے وفد ہیں
سنن نسائی : ۲۶۲۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۶
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ : الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے وفد میں تین لوگ ہیں: ایک غازی، دوسرا حاجی اور تیسرا عمرہ کرنے والا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لوگوں کو اللہ کا وفد فرمایا: غازی، حاجی اور عمرہ کرنے والا۔ وفد اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی مقصد کے لیے کسی کے پاس جائے۔ حدیث کے الفاظ سے حج و عمرہ کی عزت اور مقام سمجھ آتا ہے۔ حاجی بیت اللہ کی طرف جاتا ہے، عمرہ کرنے والا بھی اللہ کے گھر کی زیارت کے ارادے سے نکلتا ہے، اور غازی اللہ کی راہ میں نکلتا ہے۔ یہ حدیث حج اور عمرہ کی فضیلت کو دل میں بٹھاتی ہے۔ اس میں حاجی اور معتمر کے لیے ایک خاص نسبت بیان ہوئی ہے، اس لیے ایسے سفر کو معمولی سفر نہیں سمجھنا چاہیے۔ آدمی کو ادب، اخلاص اور اچھے عمل کے ساتھ جانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غازی، حاجی اور عمرہ کرنے والے کو اللہ کے وفد میں شمار کیا گیا۔
- حج و عمرہ کا سفر عزت اور ادب والا سفر ہے۔
- اللہ کی رضا کے لیے نکلنے والے اعمال کی بڑی قدر ہے۔
