سنن نسائی حدیث ۲۶۲۸ - گناہوں سے پاک لوٹنے والا حج
حج میں گناہ سے بچنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۶۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۲۸
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ ، وَلَمْ يَفْسُقْ ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر (یعنی خانہ کعبہ) کا حج کیا، نہ بیہودہ بکا ۱؎ اور نہ ہی کوئی گناہ کیا، تو وہ اس طرح (پاک و صاف ہو کر) ۲؎ لوٹے گا جس طرح وہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حج کے سفر کا ایک بڑا سبق بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے بیت اللہ کا حج کیا، نہ بیہودہ بات کی اور نہ گناہ کیا، تو وہ ایسے واپس آتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ اس میں حج مبرور اور پاکیزہ حج کا عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ صرف مکہ پہنچ جانا کافی نہیں، بلکہ زبان، کردار اور عمل کو بھی سنبھالنا ہے۔ حج کے دنوں میں جھگڑا، بے حیائی والی بات، نافرمانی اور گناہ سے بچنا خاص طور پر اہم ہے۔ حدیث میں جو خوشخبری آئی ہے وہ اسی شخص کے لیے ہے جو حج کے دوران اپنے آپ کو گناہ سے بچائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے دوران بیہودہ بات اور گناہ سے بچنا ضروری ہے۔
- پاکیزہ حج انسان کے لیے بڑی مغفرت کا سبب بنتا ہے۔
- حج صرف جسمانی سفر نہیں، اخلاق اور زبان کی حفاظت بھی ہے۔
