سنن نسائی حدیث ۲۶۴۴ - بوڑھی ماں کی طرف سے حج
ماں کی طرف سے حج بدل کیسے سمجھیں؟
سنن نسائی : ۲۶۴۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۴۴
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ ، وَإِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ " .
فضل بن عباس روایت:
´فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بوڑھی ہو چکی ہیں، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں، اور اگر میں انہیں (سواری پر بٹھا کر) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں (میں ادا کرتا) آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بوڑھی ماں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا کہ میری ماں بہت بوڑھی ہیں، اگر انہیں سواری پر بٹھاؤں تو وہ بیٹھ نہیں سکتیں، اور اگر باندھ دوں تو جان کا خطرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟ اس نے کہا، جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی ماں کی طرف سے حج کرو۔ اس میں حج بدل کا مسئلہ قرض کی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ یعنی جب ماں خود حج کی طاقت نہ رکھتی ہو تو اولاد اس کی طرف سے حج کر سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بوڑھی ماں خود حج نہ کر سکے تو اس کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلہ سمجھانے کے لیے قرض کی آسان مثال دی۔
- اولاد کو والدین کے دینی حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
- حج بدل میں انسان کی حقیقی جسمانی حالت کا لحاظ کیا جاتا ہے۔
