سنن نسائی حدیث ۲۶۴۳ - والد کی طرف سے حج پورا ہونا
والد کی طرف سے حج کرنے کی اجازت
سنن نسائی : ۲۶۴۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۴۳
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ " أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " , فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسْنَاءَ ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ ، فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ .
عبداللہ بن عباس روایت:
حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر عائد کردہ اللہ کے فریضہ حج نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں وہ سواری پر سیدھے نہیں رہ سکتے، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو ان کی طرف سے پورا ہو جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہو جائے گا“، تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اسے مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک خوبصورت عورت تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس کو پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۴۳ کا خلاصہ
یہ حدیث حج بدل کے مسئلے کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ حجۃ الوداع میں قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا کہ میرے والد پر حج فرض ہوا، مگر وہ بہت بوڑھے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے۔ اس نے پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو کیا ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا۔ اس سے حج بدل، والد کی طرف سے حج، اور بوڑھے شخص کے حج کے حکم پر واضح رہنمائی ملتی ہے۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس عورت کو دیکھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بوڑھے اور عاجز والد کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔
- حج کا مسئلہ سمجھنے کے لیے براہ راست سوال کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر ضروری دیکھنے سے بچایا۔
- حج بدل میں اصل بنیاد یہ ہے کہ شخص خود حج کرنے کے قابل نہ ہو۔
