سنن نسائی حدیث ۲۶۴۵ - بڑے بیٹے کا حج بدل
بڑے بیٹے کو باپ کی طرف سے حج کا حکم
سنن نسائی : ۲۶۴۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۴۵
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ يُوسُفَ ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ : " أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَحُجَّ عَنْهُ " .
عبداللہ بن زبیر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۴۵ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ تم اپنے باپ کے بڑے بیٹے ہو، اس لیے ان کی طرف سے حج کرو۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں مگر حج بدل کے باب میں ایک واضح اشارہ دیتے ہیں کہ اولاد، خاص طور پر بڑا بیٹا، والد کے دینی حق کا خیال رکھے۔ یہاں تفصیل بیان نہیں ہوئی کہ والد کی حالت کیا تھی، اس لیے اسی متن تک بات رکھی جائے گی۔ اس روایت کو حج بدل، باپ کی طرف سے حج، اور والدین کے حق کے ضمن میں پڑھا جاتا ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ دین کے بڑے اعمال میں خاندان کے ذمہ دار افراد ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں جب شرعی طور پر اس کی گنجائش ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑا بیٹا والد کے دینی حق کی ادائیگی میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
- باپ کی طرف سے حج کرنا حج بدل کے مسئلے سے متعلق ہے۔
- مختصر حدیث میں بھی عملی رہنمائی موجود ہو سکتی ہے۔
- والدین کے معاملے میں اولاد کو سنجیدہ رہنا چاہیے۔
