سنن نسائی حدیث ۲۶۴۷ - نابالغ بچے کا حج
نابالغ بچے کے حج پر ماں کو اجر
سنن نسائی : ۲۶۴۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۴۷
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ هَوْدَجٍ ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ " أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
سنن نسائی حدیث ۲۶۴۷ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اس کا بھی حج ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اور تمہیں اجر ملے گا۔ یہ حدیث بچے کا حج اور نابالغ کے حج کے بارے میں بہت واضح جواب دیتی ہے۔ ماں نے سوال کیا، اور جواب میں بچے کے حج کا اثبات بھی آیا اور ماں کے اجر کا ذکر بھی۔ اس متن میں اصل توجہ اسی بات پر ہے کہ بچے کو حج میں شریک کرنا بے معنی نہیں، بلکہ اس پر اجر کی بات آئی ہے۔ والدین جب بچوں کو نیکی کے کام میں شامل کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے بھی خیر کا سبب بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نابالغ بچے کے لیے حج کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- بچے کو حج کرانے والی عورت کو اجر دیا جاتا ہے۔
- دینی سوال مختصر ہو تو جواب بھی واضح اور آسان ہو سکتا ہے۔
- والدین بچوں کو عبادت کے ماحول میں لا سکتے ہیں۔
