سنن نسائی حدیث ۲۶۴۸ - بچے کو حج کرانے کا اجر

بچے کو حج کرانے والی ماں کے لیے اجر

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۴۸

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَفَعَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيًّا ، فَقَالَتْ : " أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“۔

سنن نسائی حدیث ۲۶۴۸ کا خلاصہ

یہ حدیث اسی مضمون کی ایک اور روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا کہ کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اور تمہیں اجر ملے گا۔ اس میں بچے کا حج، بچے کو حج کرانا، اور والدین کے اجر کا ذکر صاف آتا ہے۔ حدیث کا انداز بہت مختصر ہے، مگر عام مسلمان کے لیے سمجھنا آسان ہے کہ نیکی میں بچوں کو شامل کرنے کی قدر ہے۔ یہاں کسی اضافی شرط یا لمبی بحث کا ذکر نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ بچے کے حج کا سوال کیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مثبت جواب دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بچے کے حج کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں فرمایا۔
  • بچے کو حج کرانے والی ماں کو اجر ملتا ہے۔
  • عبادت کے معاملے میں بچوں کو ساتھ رکھنا اچھی بات ہو سکتی ہے۔
  • حدیث میں موجود الفاظ سے آگے بڑھ کر دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں