سنن نسائی حدیث ۲۶۴۹ - روحا میں بچے کے حج کا سوال
روحا کے مقام پر بچے کے حج کا سوال
سنن نسائی : ۲۶۴۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۴۹
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ قَوْمًا ، فَقَالَ : " مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : الْمُسْلِمُونَ ، قَالُوا : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَخْرَجَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا مِنَ الْمِحَفَّةِ فَقَالَتْ : أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ ان لوگوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں“، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روحا کے مقام پر کچھ لوگوں سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ بتایا گیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے بچہ نکالا اور پوچھا کہ کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا۔ یہ روایت بچے کا حج اور بچے کو حج میں شامل کرنے کا مسئلہ بڑے سادہ انداز میں بتاتی ہے۔ یہاں ماں کے سوال کا جواب بھی ہے اور اس کی کوشش پر اجر کی خوش خبری بھی ہے، مگر متن سے آگے کوئی اضافی بات نہیں کہی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچے کے لیے حج کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے ثابت ہے۔
- بچے کو حج میں شامل کرنے والی عورت کو ثواب ملتا ہے۔
- مسلمانوں نے پہچان کے بعد دینی سوال کیا، یہ علم کی طلب کو دکھاتا ہے۔
- حدیث میں سفر کے دوران بھی دینی رہنمائی کا نمونہ ملتا ہے۔
