سنن نسائی حدیث ۲۶۵۰ - چھوٹے بچے کا حج
چھوٹے بچے کے حج پر اجر کا وعدہ
سنن نسائی : ۲۶۵۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۶۵۰
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدٍ ابْن أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ أَبُو الرَّبِيعِ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا ، مَعَهَا صَبِيٌّ ، فَقَالَتْ : " أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا، اس نے کہا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۲۶۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا۔ اس عورت نے پوچھا کہ کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا۔ یہ روایت بچے کے حج کے بارے میں مختصر مگر بہت واضح ہے۔ بچے کا حج، نابالغ کا حج، اور بچے کو حج کرانے کا اجر جیسے سوالات میں یہی جملہ اصل رہنمائی دیتا ہے۔ حدیث میں عورت کے پردے کا ذکر بھی آیا ہے، مگر سوال کا مرکز بچہ اور حج ہے۔ اس لیے اصل بات یہی ہے کہ بچے کے حج کا جواب ہاں میں دیا گیا اور اس کی دیکھ بھال کرنے والی عورت کے اجر کا ذکر ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھوٹے بچے کے لیے حج کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔
- بچے کو حج کرانے والی عورت کو اجر ملتا ہے۔
- دینی سوال ہر حال میں پوچھا جا سکتا ہے جب ضرورت ہو۔
- حدیث کی بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جس حد تک متن بتاتا ہے۔
